لالچ بری بلا ھے۔

ایک دفعہ کا زکر ھے کہ ایک گاوں میں زمیندار اپنی زمین کسانوں کو ٹھیکے پر دیتا تھا موسم سرما میں زمیندار نے اپنی زمین کسان کو ٹھیکے پر دی۔ کسان نے زمیندار کو ٹھیکہ ادا کیا اور کاشت شروع کر دی۔ ایک مرتبہ کسان کھیتوں میں کام کر رھا تھا کہ کھدائی کے دوران اسے سونے کے سکوں سے بھرے ھوے دو گھڑے ملے۔ اور زمیندار کو جب پتا چلا تو وہ بھی اپنی زمین پر پہنچ گیا زمیندار نے کہاں یہ گھڑے میرے ھیں کیونکہ زمین میری ھے۔ کسان نے کہا نہیں یہ گھڑے میرے ہیں کیونکہ میں نے زمین ٹھیکے پر لی ھے۔ اتنے میں مولوی صاحب کا وہاں سے گزر ھوا تو انہوں نے دونوں کی بات سنی اور کہا کہ اس پر تم دونوں کا حق ھے۔ لیکن زمیندار اور کسان دونوں اس بات پر راضی نا ھوے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بادشاہ کے پاس چلتے ھیں جو وہ فیصلہ کریں گے۔پھر دونوں بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور سارا واقع سنایا۔بادشاہ نے دونوں کی بات سنی اور کہا کہ اس زمین سے جو کچھ بھی نکلے گا وہ بادشاہ کے خزانے میں جمع کیا جاے گا۔بادشاہ نے سارا خزانہ اپنے پاس رکھ لیا اور دونوں کو واپس بھیج دیا۔ پس دوستوں لالچ بری بلا ھے